ابنا: حمص کے پرانے شہر میں اکثریتی علوی آبادی والے علاقے میں ایک مہیب بم دھماکہ ہواجس کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک ہوئے۔
منگل کو ہی اس سے قبل دارالحکومت دمشق کے الشغور علاقے میں ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ پر مارٹر گولوں کے حملوں میں 14 افراد ہلاک جبکہ 50 زخمی ہو گئے۔
یاد رہے کہ ان حملوں سے ایک روز قبل ہی شامی صدر بشار الاسد نے انتخابات میں شرکت کے لیے اپنے کاغذات جمع کروائے ہیں۔
حقوق سے متعلق عالمی تنظیم ہیومن رائیٹس واچ نے شام میں عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 35 لاکھ شامی اس وقت ایسے علاقوں میں موجود ہیں جہاں کوشش کے باوجود امداد نہیں پہنچ پا رہی ہے۔
واضح رہے کہ شام میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی پر تشدد کارروائیوں کے باعث 2011ء کے بعد سے اب تک 65 لاکھ افراد کو شام کے اندر ہی مختلف شہروں میں نقل مکانی کرنا پڑی ہے جبکہ 26 لاکھ کے قریب شامیوں نے دوسرے ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔
شام میں جاری بحران کے نتیجے میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جنمیں بڑی تعداد عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز کی ہے۔
.......
/169